Siyasat Ki Purkhar Wadi - JaisheMillat

JaisheMillat

Behtreen Ibadat Ilm-E-Deen Hasil karna Hai,~

Latest Tweets

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

30 November 2015

Siyasat Ki Purkhar Wadi

siyasat-ki-purkhar-wadi.gif

" امام احمد رضا قدس سرہ کے سیاسی ماحول کا ایک مختصر خاکہ ملاحظہ ہو، آزادی کے شمع حریت پر پروانہ وار نثار یونے کے لئے میدان عمل میں آگے بڑھ رہے تھے-ایسے تاریخ ساز لمحات میں بعض حضرات گاندھی کو ولی ثابت کرنے میں مصروف تھے مسلمانوں کے اس موزی دشمن کو مسجد و محراب میں لاکر منبر پر بٹھایا جا رہا تھا اسی دوران تحریک خلافت چلی اور اس کے ساتھ ہی تحریک ترک موالات کا بہت شہرہ ہوا اگرچہ ان تحریکات میں موکانا محمد علی جوہر، مولانا شوکب علی، مولانا عبدالباری فرنگی محلی جیسے کئی مسلم رہنما پیش تھے مگر ان تحریکات کو گاندھی اور نہرو جیسے دشمن ہندو لیڈروں کی آشرباد حاصل تھا-بھلا گاندھی کو خلافت اسلامی کے سے قیام سے کیا دلچسپی ہونی تھی وہ تو صرف خرمن اسلام کو جلتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا-ایسے عالم میں امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ نے کس طرح ملت اسلامیہ کی رہنمائی کی اسکی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے- اعلی حضرت کاسب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے میدان سیاست میں نیشتلسٹ مسلمانوں کی سخت مخالفت کی-یہ وہ لوگ تھے جو ہندو مفادات کو تقویت پہنچا رہے تھے-اعلی حضرت کا مؤقف یہ تھا کہ کافرہں اور مشرکوں سے مسلمانوں کا ایسا اشتراک عمل نہیں ہو سکتا جس میں مسلمانوں کی حیثیت ثانوی ہو-انہون نے گاندھی اور دوسرے ہندو لیڈروں کو مساجد میں لے جانے کی مخالفت کی کیوں کہ قرآن پاک کی رو سے مشرکین نجس اور ناپاک ہیں-آپ رضی اللہ عنہ قائد اعظم کی طرح طحریک عدم تعاون اور تحریک ہجرت دونوں کے مخالف تھے کیوں کہ یہ دونوں تحریکیں اس بر اعظم کے مسلمانوں کے مسلمانوں کےمفادات کے منافی تھیں حضرت بریلوی رضی اللہ کا کہنا تھا کہ نیشتلسٹ مسلمانوں کی ابھی ایک آنکھ کھلی ہے انہیں چاہئے کہ وہ دونوں آنکھیں کھولیں یعنی ابھی وہ صرف انگریز کی مخالفت دیکھ سکتے ہیں ہندو کا تعصب اور عداوت نہیں دیکھ پائے امام احمد رضا خاں رضی اللہ عنہ انگریز دشمنی کے ساتھ ہندو دشمنی کے بھی قائل تھے-ہندوؤں نے مسلمانوں کا دیکھاوے کے لئے جب بھی ساتھ دیا تو ساتھ ہی ترک گاؤ کشی کا مطالبہ بھی کر دیا-تحریک خلافت اور پھر تحریک ترک موالات نے مسکمانوں کا دیکھاوے کے لئے جب بھی ساتھ دیا تو ساتھ ہی ترک گاؤ کشی کا مطالبہ بھی کر دیا-تحریک خلافت اور پھر تحریک ترک موالات کے زمانے میں 1919 ء-1922 ء ترک گاؤ کشی کا مطالبہ بھی کیا تو مسلم عمائدین نے سیاسی پلیٹ فارم سے اس کی تائید کر دی-اعلی حضرت رضی اللّہ عنہ نے ہندوؤں کے مخفی عزائم کو بھانپ کر انکی دیکھاوے کی دوستی اور مسلم عمائدین کے ہندو نوازی کا بھرم کھول کر سلطنت اسلامیہ کے لئے ہموار کی تحریک آزادی ہند کے ایک دور میں بعض علماء ہندستان کو دادالحرب قرار دے کر مسلمانوں کی ہجرت پر اکساتے رہے، اس ہجرت کا فائدہ ہندوؤں کو ہی پہنچا کسی ہندو نے ہندستان نہ چھوڑا بلکہ یہ ملک چھوڑنے والوں کی جائدادیں اونے پونے داموں میں خریدتے رہے اور جب یہ خود ساختہ مہاجرین ذلت و خواری کے بعد واپس آئے تو ان کے لئے گھر اور کھاٹ دونوں کا تصور خواب بن چکا تھا-امام احمد رضا خاں رضی اللہ عنہ سے ترکی کے حکمران کی حالت چھپی نہ تھی-وہ اسے سلطان تو سمجھتے تھے مگر خلافت اسلامیہ نے سربراہ ہونے کے ناطے خلیفتہ المسلمین ماننے کو تیار نہیں تھے-اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کے نزدیک شریعت اسلامیہ میں خلیفی اسلام کے لئے شرائط اور ان کی اتباع و حمایت کے احکام جدا جدا تھے قدرت نے اعلی حضرت بریلوی رضی اللہ عنہ کے مؤقف کی اس طرح تائید کی کہ ہندستانی علماء تو گاندھی کو ساتھ ملا کر نام نہاد خلافت کے لئے جد و جہد کرتے ہوئے اسلام کے بہت سے بنیادی اصولوں سے روگردانی کرتے رہے اور ادھر ترکی کے اندر مصطفٰی کمال پاشا نے باطل قوتوں کے خلاف اور خون کے عبور کرتے ہوئے ترکی کی نشاط ثانیہ کی بنیاد رکھ دی اور خود ہی خلافت کے خاتمہ کا اعلان کر دیا-کمال اتا ترک کا یہ اعلان اعلی حضرت بریلوی رضی اللہ عنہ کی فقہی-بصیرت -سیاسی پختگی-دینی استواری اور مستقبل بینی کا بین ثبوت تھا یوں معلوم ہورہا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کی مسلمانوں کی بہبودی کے لئے تدابیر خدا کی تقدیر کا ہرتو لئے ہوئے تھے اعلی حضرت کے حاسدین اور معاندین نے آپ رضی اللہ عنہ کی ہندو دشمنی اور گستاخانہ عبارات پر انکو ٹوکنے کی پاداش میں اعلی حضرت پر انگریزی دوستی کے الزام عائد کر دیا جب اس الزام کی نوعیت اور اس سے متعلق امور کا جائزی لیا گیا تو یہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے تمام حریت پسندوں پر بڑھ کر انگریز دشمن ثابت ہوا-آپ رضی اللہ عنہ کے مزاج آشنا سید الطاف علی بریلوی اس صورت حال کا یوں جائزہ لیتے ہیں سیاسی نظرئے کے اعتبار سے حضرت مولانا احمد رضا خاں صاحب رضی اللہ عنہ بلا شبہ حریت پسند تھے انگریز اور انگریزی حکومت سے دلی نفرت تھی-شمس العلماء قسم کے کسی خطاب وغیرہ کو حاصل کرنے کا ان کو یا ان کے صاحبزادگان مولانا حامد رضا خان یا حضور مفتئ اعظم ہند مصطفی رضا خاں صاحب کبھی تصور بھی نہ ہوا،~

رائٹر: محمد ندیم رضا برکاتی، مدھواپور، مدھوبنی، بہار (انڈیا)

No comments: