Aalahazrat Ek Sacche Aashique Rasool - JaisheMillat

JaisheMillat

Behtreen Ibadat Ilm-E-Deen Hasil karna Hai,~

Latest Tweets

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

23 November 2015

Aalahazrat Ek Sacche Aashique Rasool

اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کی ولادت وقت ظہر 10 شوال المکرم بروز شنبہ 1272 ھ بمطابق 14 جون 1856 ء کو ہندستان کے صوبہ اتر پردیش کے مردم خیز شہر بریلی شریف محلہ جسولی میں ہوئی اور علمی گہوارہ میں آنکھ کھلی آپکا پیدائشی نام محمد اور تاریخی نام المختار آپکے والد ماجد علامہ نقی علی خاں اپنے وقت کے جید عالم با عمل بہترین مفکر عمدہ مفسر تفقه فی الدين میں یگانہ روزگار اور فہم فراست کے مالک تھے جنکے محنت کا ثمرہ ہمارے سامنے تصنیفوں اور دیگر وسائل سے ظاہر ہوتا ہے مثلاً آپکا علمی و عرفانی خانداں اور چند کتب جسے آپ نے تصنیف فرمائی جس میں سے ایک یہ ہے -الكلام الا وضح فی الم نشرح- آپ نے سورۃ الم نشرہ کی تفسیر تقریباً پانچ سو صفحات سے زائد پر تحریر فرمایا =امام احمد رضا کی عہد طفولیت= بالائے سرش زہوش مندی- می تافت ستارہ بلندی عہد طفولیت ہی میں آپکی پیشانئ مبارک پر سعادت و ارجمند کے آثار نظر آرہے تھے آپ کی ذہانت و فطانت پر آپکے خاندان کے افرار فخر کرتے تھے آپکی پیشانئ مبارک کو دیکھکر یہ فرماتے تھے کہ یہ بچہ ایک روز علم و فضل کا تاجدار بن کر عالم اسلام پر درخشاں ہوں گے- جب آپ نے 1286 ھ میں علوم و فنون سے فراغت حاصل کیا اس وقت آپ کی عمر تیرہ سال دس ماہ اور پانچ دن کی تھی اَلَا لَا اِيْمَانَ لَا مَحَبَّة لَهُ- اسکا ایمان کامل نہیں جسکے دل میں محبت نہیں- اسکی وضاحت نبئ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے ہوتی ہے لا يومن احدكم حتی اكون احب اليه من والده و ولده والناس اجمعين - تم میں سے کوئی شخص مؤمن کامل نہیں ہو سکتا جبتک کہ اپنے والدین،بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے اعلی حضرت نے اپنی پوری عمر اس حدیث پاک پر عمل کرتے ہوئے گزار دیا -آپ کی کتابیں تقاریر اور نعتیہ اشعار کا ما حصل یہی ہے کہ عشق مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر عبادت و ریاضت سب بیکار ہے کیونکہ عشق مصطفے کے ساتھ ہی عبادت و ریاضت میں چاشنی ملتی ہے اعلی حضرت عشق مصطفے میں اس طرح سرشار تھے کہ آپ کی پوری زندگی عشق رسول ہی میں کٹی عشق رسالت سے آپ کا سینہ مدینہ بنا ہوا تھا اعلی حضرت نے اپنی پوری زندگی عشق مصطفے پر قربان کر دیا اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے تھے آپ کا دل حب الٰہی اور حب رسول کا مسکن و محور ہو گیا تھا آپ کا فرمان ہے کہ اگر میرے قلب کو دو ٹکڑا کیا جائے تو ایک پر لا اله الاالله اور دوسرے پر محمد رسول الله نقش ہوگا عشق رسول ہی اعلی حضرت کا ایک ایسا امتیازی وصف ہے جو دیگر فضائل و کمالات سے ممتاز کرتی ہے جب دشمنان رسول چراغ مصطفے کو بجھانے کے درپے تھے تو اعلی حضرت عليه الرحمه عشق مصطفے کا سرمہ لوگوں کی آنکھوں میں پہنایا، عشق رسول میں نعت گنگنائے تو حدائق بخشش وجود میں آئی لحد میں عشق مصطفے کا چراغ لے کے چلے - اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے اعلی حضرت سادات کرام بلکہ ان تمام چیزوں سے بے حد محبت فرماتے جسکی نسبت نبی کریم صلی عليه وسلم کی طرف ہوتی آپ سادات کرام کا بے حد ادب و احترام اور انکی تعظیم و توقیر کرتے تھے - ایک واقعہ ہے کہ آپ کے گھر میں ایک لڑکا ملازمت کرتا تھا بعدہ آپ کو معلوم ہوا کہ اس لڑکا کا تعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے ہے یہ سید ہیں پھر آپ نے اپنے گھر والے کو حکم دیا اس سے کوئی کام نہ لیا جائے اور جو ملازمت پر اجرت طے ہوئی تھی وہ اس لڑکا کو بطور تحفہ دیا جائے- اس سے اندازہ ہوتا ہے اعلی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے سے کس طرح محبت کرتے تھے تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا - تو عین نور تیرا سب گھرانہ نور کا اعلی حضرت کو اپنے تو اپنے بلکہ غیر بھی عاشق کہتے تھے چنانچہ مولانا اشرف علی صاحب کہتے ہیں کی احمد رضا مجھے کافر کہتا ہے اور میں ان سے محبت کرتا ہوں احمد رضا مجھے جو کافر کہتا ہے وہ عشق رسول ہی کی وجہ سے کہتا ہے کسی اور وجہ سے تو نہیں کہتا، اعلی حضرت کے پاس ہندستان اور بیرون ملک سے خطوط آتے تھے اپنے خطوط کے ذریعہ اپنے اپنے مسائل اور استفتا دریافت کرتے اعلی حضرت ان تمام مسائل کا جواب تشفی بخش دیتے - اسی خطوط میں سے ایک خط آپکا خادم پڑھکر سنایا اس خط میں آپکو گالی اور طعن و تشنیع توہین کیا گیا تھا اعلی حضرت اس خط کو سنکر بیت خوش ہوئے آپ خوشی سے جھومنے لگے آپ کے خدام نے عرض کیا کہ حضور آپ خوش کیوں ہو رہے ہیں اس خط میں آپکی تعریف نہیں کی گئی ہے بلکہ آپکو گالی دی گئی ہے اعلی حضرت نے ارشاد فرمایا میں اس لئے خوش ہو رہا ہوں کہ بدبخت اور گستاخ رسول جس وقت مجھے برا بھلا کہا ہوگا اس وقت تو ہمارے آقا کی گستاخی سے اپنی زبان کو روک رکھا ہوگا یہ عشق رسول ہے اعلی حضرت کا آپ نے آنے والی نسل کو یہ بتا دیا کہ تم کو اگر کوئی گالی دے تو برداشت کر لینا لیکن میرے آقا کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی بھی برداشت نہ کرنا اعلی حضرت نے یہ وصیت کیا کہ میری قبر اتنی گہری ہو کہ جب آقا دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں تشریف آوری ہو تو احمد رضا کھڑے ہو کر اپنے آقا کی شان میں ادب و احترام سے اپنے آقا پر درود و سلام پیش کریں آخر کار قرآن کا فرمان ہے كل نفس ذائقة الموت ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنی ہے اسی فرمان الٰہی کے تحت اعلی حضرت نے بھی موت کا مزہ چکھا اور عالم اسلام کو غمزدہ کرکے 25 صفرالمظفر 1340 ھ کو اس دنیا سے دار فانی کی طرف کوچ کر گئے انا لله و انا اليه راجعون اللہ تعالی سے دعا ہے اعلی حضرت کو اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائے،~

منجانب: محمدنديم رضابركاتی، مدرسہ عربیہ رضویہ ضیاءالعلوم ادری، مئو، یوپی

www.jaishemillat.heck.in jaishemillat@gmail.com

No comments: