حضرت زلیخا
رضی اللہ تعالٰی عنہا
آجکل عوام کو یہ ھی نہیں پتا کہ حضرت زلیخا رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مطلق کیا عقیدہ رکھنا چاھیے؟
حضرت زلیخا رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام سے ھوا تھا یا نہیں؟
کچھ ماڈرن لوگ تو صرف قرآن پاک کا ترجمہ پڑھ کر اپنی طرف سے حضرت زلیخا رضی اللہ عنہا کو زانیہ و فاحشہ تک کہہ دیتے ھیں
استغفراللہ
اس میسج میں اھلِ سنت کا حضرت زلیخا رضی اللہ عنہا پر اجماعی عقیدہ بیان کیا جائے گا
ان شآءاللہ
1 قاضی ثناءاللہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ھیں
عزیزِ مصر کی وفات کے بعد حضرت زلیخا رضی اللہ عنہا حضرت یوسف علیہ السلام کے نکاح میں آئیں اور آپ کے بطن سے حضرت یوسف علیہ السلام کے دو بیٹے پیدا ھوئے ابراھیم اور میثم جبکہ ایک بیٹی رحمت پیدا ھوئی جو حضرت ایوب علیہ السلام کے نکاح میں آئیں
(تفسیرِ مظہری, جلدنمبر5, صفح نمبر204)
2 امام رازی علیہ الرحمہ فرماتے ھیں
عزیزِ مصر کی وفات کے بعد شاہِ شام نے حضرت زلیخا رضی اللہ تعالٰی عنہا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام سے کیا تو آپ علیہ السلام نے انہیں کنواری پایا کیونکہ عزیزِ مصر نامرد تھا
(تفسیرِ کبیر, جلدنمبر4, صفح نمبر25)
3علامہ صاوی علیہ الرحمہ فرماتے ھیں
حضرت یوسف کی یاد میں زلیخا رو رو کر نابینا ھو گئی تھی اور اس کی ساری پونجی ختم تھی. جب حضرت یوسف علیہ السلام لوگوں کو دیدار کرانے نکلے تو زلیخا کو دیکھا تو پہچان لیا.آپ علیہ السلام نے دعا کی تو زلیخا کی آنکھیں واپس آگئیں اور اس کی جوانی بھی واپس آگئی پھر آپ علیہ السلام نے اس سے نکاح فرمایا
(تفسیرِ صاوی, جلدنمبر2, صفح نمبر211)
4 داتا علی ھجویری علیہ الرحمہ فرماتے ھیں
اللہ تعالٰی نے زلیخا کو جوانی و شباب لوٹا دیا اور دولتِ ایمان عطا کی اور حضرت یوسف علیہ السلام کے نکاح میں دیا
(کشف المحجوب, صفح نمبر294)
جیسے اوپر لکھا گیاھےتوایسے ھی تفسیرِ جلالین, تفسیر جریر, تفسیر ابنِ کثیر, تفسیر درمنثور وغیرھما میں لکھا ھے کہ حضرت زلیخا رضی اللہ تعالٰی عنہا حضرت یوسف علیہ السلام کے نکاح میں آئیں تو جب بھی حضرت زلیخارضی اللہ عنہا کا ذکر کریں تو خیر کے ساتھ کریں اور ادب کا دائرہ ملحوظِ خاطر رکھیں
ایک شبہ کا ازالہ
کچھ شرپسند عناصر لوگوں کو یہ وسوسہ ڈالتے ھیں کہ دیکھو قرآن بتاتا ھے کہ زلیخا کا زنا کا ارادہ تھا اور تم کہتے ھو کہ اس کا نکاح نبی سے ھوا تو کیا اللہ پاک نے نبی کا نکاح ایک زانیہ سے ھونے دیا؟
الجواب
1 قرآن نے زلیخا کے گناہ کے ارادے کا ذکر کیا ھے نہ کہ گناہ کا تو وہ گنہگار کیسے ھوئیں کہ گناہ کا ارادہ گناہ نہیں بلکہ گناہ کرنے والا گناہ گار ھوتا ھے اور قرآن نے گناہ کے ارادہ تو بیان کیا لیکن گناہ نہ بیان کیا تو زلیخا کو گناہگار کہنے والے جھوٹا الزام لگاتے ھیں اس پر
2 اس کی مثال ایسے سمجھیں کہ حضرت عمر بھی نبی کے قتل کا ارادہ کر چکے تھے اور یاد رھے کہ نبی کے قتل کے ارادہ زنا کے ارادے سے زیادہ بُرا ھے لیکن پھر ایمان لے آئے تو وہ رتبہ ملا کہ ارشاد ھوا اگر میرے بعد کوئی نبی ھوتا تو عمر ھوتا بالکل اسی طرح زلیخا کے گناہ کے ارادے کا قصہ ھے کہ بعد میں وہ ایمان لے آئیں اور نبی کی بیوی ھوئیں اور بلند مرتبہ پایا اللہ پاک کی بارگاہ میں
دعا ھے کہ اللہ پاک اس میسج کو قبول فرمائے اور میرے لیے توشہءِ آخرت بنائے
No comments:
Post a Comment