Mobile Istemal Karne Walo'n K Liye Ek Naseehat - JaisheMillat

JaisheMillat

Behtreen Ibadat Ilm-E-Deen Hasil karna Hai,~

Latest Tweets

test banner

Post Top Ad

Responsive Ads Here

8 October 2015

Mobile Istemal Karne Walo'n K Liye Ek Naseehat

"‎موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت

رونگٹے کھڑے کر دینے والی کام کی بات

کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرات ِصحابہ کرام ؓ کا امتحان لیا تھا، جب کہ وہ حالت ِ احرام میں تھے- حج و عمرہ کے احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہوتاہے- امتحان اس طرح ہوا کہ شکار کو ان کے اتنے قریب تک پہنچا دیا کہ اگر ان میں سے کوئی اسلحہ و آلات کے بغیرہاتھ سے شکار پکڑنا چاہے تو پکڑ سکے-

قرآن میں ہے : ’’ اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گا جن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکوگے ، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘‘ ( سورہ مائدہ: ۹۴)

اس زمانے میں بھی ایسا ہی امتحان اور ابتلاء بکثرت پیش آرہا ہے، البتہ اس کا انداز اور طریقہ قدرے مختلف ہے۔ وہ کیا ہے اور کیسے ہے ؟

آج سے تقریباً  ٙ10 -12 سال پہلے فحش تصاویر اور ناجائز ویڈیو کلپس وغیرہ کا حصول کافی حد تک دشوار اور مشکل ہوا کرتا تھا؛ لیکن آج کل موبائل اسکرین یا کمپیوٹر کے بٹن کو ہلکا سا ٹچ کرنے سے یہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ اعاذنا للہ منہ

اللہ تعالی کے ارشاد کو یاد کیجئے اور غور فرمائیے : "لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب"۔ اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔ تنہائی میں اپنے جسمانی اعضا کی خاموشی و بے زبانی سے دھوکے میں نہ پڑو. ! اس لیے کہ ایک دن ان کے بولنے کا بھی آنے والا ہے۔ قرآن میں ہے : "آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے کرتوت کی گواہی دیں گے"۔

اللہ تعالی کے ارشاد کو پھر سے ذہن نشین کر لیجئے: ’اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گاجن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکوگے ، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اسے دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘

خلوت (تنہائی ) میں معصیت (گناہ کرنا)زیادہ خطرناک ہے۔

ایک بزرگ کا ارشاد ہے : ’’ جب کوئی آدمی گناہ میں مبتلا ہو، عین اسی وقت ہوا کے جھونکے سے دروازے کا پردہ ہلنے لگے اور اس کے ہلنے سے آدمی یہ سمجھ کر ڈر جائے کہ کوئی آگیا، تویہ ڈرنا اس گناہ سے بڑا ہے جو وہ کر رہا تھا۔‘‘کیوں کہ یہ شخص مخلوق کے دیکھنے کے اندیشے سے بھی ڈرتا ہے ، جب کہ اللہ تعالی اس کو یقینا دیکھ رہا ہے ، پھر بھی خوف نہیں کرتا۔

کوئی شخص تصاویر دیکھنے میں مشغول ہو اور دروازے پر کچھ آہٹ محسوس ہو تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟ کلیجہ منہ کوآ جاتا ہے،سانس رک جاتی ہے اور دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ پھر وہ اپنا کمپیوٹر بند کرکے دروازہ کھول کر دیکھتا ہے تووہاں بلی ہوتی ہے۔ ‘

اے میرے پیارے اسلامی بھائی ۔ اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ قریب ہے ، اس کا خوف کیوں نہیں ؟

مراقبہ کی دیوار آدمی اور اس کے موبائل کی ناجائزاور رسوا کن حرکتوں کے درمیان ’اللہ کے دھیان ‘ کی دیوار کے سوا کوئی دوسری چیز حائل نہیں۔

علامہ شنقیطی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں : "تمام علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالی نے مراقبہ یعنی ’اللہ کے دھیان‘سے بڑھ کر کوئی واعظ اور اس سے بڑی کوئی ڈرانے والی چیز زمین پر نہیں اتاری۔پس جس نے اس مراقبہ کی دیوار کو ڈھا دیا اس نے بڑی جسارت کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالی کو جسارت دکھلانابڑی خطرناک چیز ہے"۔

کسی بزرگ کا ارشاد ہے : ظاہر میں اللہ کا دوست اورباطن میں اللہ کا دشمن نہ بنو۔ اگر ایک طرف ہم یہ کہتے ہیں کہ :’’اس زمانہ میں پہلے کی بہ نسبت حرام کاموں تک رسائی بہت آسان ہو گئی ہے، ‘‘وہیں ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ’’ اس زمانہ میں ’ترک حرام‘سے جتنا اللہ کا قرب حاصل ہوگا اتنا کسی اور چیز سے حاصل نہ ہوگا۔‘‘

تنہائی میں گناہ سے خصوصی اجتناب تنہائی اور خلوت کے گناہوں سے بچو، بطورخاص اہل خانہ کی غیر موجودگی میں موبائل ، کمپیوٹر اورٹیلی وی ژن کے گناہوں سے۔ اس لیے کہ خلوت کے گناہ ایمان کی راہ سے ڈگمگا دیتے ہیں اور ثابت قدمی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تنہائی کی عبادت کو لازم پکڑو۔ تم ا س سے اپنے نفس کو شہوات کی پکڑ میں آنے سے بچا سکوگے۔

اگر تم زندگی کی آخری سانس تک ایمان پر جمے رہنا چاہتے ہو تو خلوت میں مراقبہ یعنی ’اللہ کے دھیان ‘ کو لازم پکڑ لو۔ ابن القیم ؒ فرماتے ہیں : "خلوت کے گناہ راہ ِحق سے متزلزل کردیتے ہیں اور عبادات سے ثبات قدمی نصیب ہوتی ہے" ۔

بندہ اپنی خلوت (تنہائی ) کو جتنی زیادہ پاکیزہ رکھے گا اللہ تعالی قبرمیں اس کی تنہائی کو اسی قدر شاد و آباد رکھے گا۔

رہا معاملہ قیامت کے دن کا تو سنو ! حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’میں اپنی امت کے کچھ لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں ، جو قیامت کے دن مکہ کے پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے ؛لیکن اللہ تعالی ان ساری نیکیوں کو اکارت کر دیگا ۔ حضرت ثوبان ؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ! ان کے کچھ اوصاف و علامتیں ہمیں بتلا دیجئے : کہیں ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں ہم بھی انہیں میں سے ہو جائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا سنو! وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، تمہاری جنس اور نسل کے ہوں گے۔ وہ تمہاری ہی طرح رات (کی نیکیوں)کوحاصل کریںگے ؛ لیکن جب اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے ساتھ خلوت اور تنہائی کو پائیں گے تو ساری حدود توڑ کررکھ دیں گے۔ (رواہ ابن ماجہ)‘‘

موبائل ایک بینک لاکر کی طرح ہے

موبائل فون ایک صندوق ہے ، بالفاظ دیگر ’بینک لاکر‘ ہے، ان میں نیکیاں جمع کرو یا برائیاں۔ آپ اس میں جو بھی ڈالیں گے کل قیامت کے دن اپنے نامہ اعمال میں موجود پائیں گے

اے اللہ ! ہمیں اپنا ایسا ڈر اور خشیت عطا فرما جو ہمارے اور تیری نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے خلوت وجلوت میں تیری کی خشیت کا سوال کرتے ہیں۔ منقول

No comments: